فهرس الكتاب

الصفحة 2151 من 6343

(69) نبی کریم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کافروں کو احساس دلائیں کہ اللہ اور رسول کی نگاہ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے نہ ان کا ایمان لانا کوئی بڑی اہم بات ہے اور نہ ہی ان کے کفر و عناد سے کسی اور کو کوئی نقصان پہنچے گا، اگر وہ اللہ پر ایمان نہیں لائیں گے اور قرآن کریم کو اس کی کتاب تسلیم نہیں کریں گے، تو کیا ہوتا ہے ان سے بہت ہی اچھے لوگ، یعنی اہل کتاب کے نیک علما مثلا عبداللہ بن سلام، سلمان فارسی اور نجاشی وغیرہم اسے اللہ کی کتاب اور نبی کریم کو وہی رسول مان چلے ہیں جن کی بشارت تورات و انجیل میں دی جاچکی ہے، اور ان علمائے صالحین کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے اپنی ٹھڈیوں اور سروں کے بل سربسجود ہوجاتے ہیں کہ اس نے ان پر یہ احسان کیا کہ انہوں نے نبی کریم کا زمانہ پایا، اور ان پر اور قرآن کریم پر ایمان لے آئے، اور اس کی عظمت اور پاکی بیان کرتے ہیں کہ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا اور نبی کریم کو دنیا والوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے مبعوث کردیا، اور وہ کہ تے ہیں کہ ہمارے رب کا ہر وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے۔ اور قرآن کریم میں مذکور وعظ و نصیحت کو سن کر شدت تاثیر سے اپنی ٹھڈیوں کے بل سجدے میں گر کر روتے ہیں اور اللہ کے لیے ان کی عاجزی و انکساری میں اضافہ ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت