فهرس الكتاب

الصفحة 5754 من 6343

(3) ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت، علم اور رحمت کے مظاہر بیان کئے ہیں جن میں غور و فکر کرنا باری تعالیٰ کی وحدانیت اور عقیدہ بعث بعد الموت پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لوگو ! کیا ہم نے زمین کو تمہارے لئے فرش نہیں بنایا ہے، جس پر تم کھیتی کرتے ہو، آرام سے زندگی گذارتے ہو، اور اس پر موجود راستوں پر چل کر دور دراز کا سفر کرتے ہو اور کیا ہم نے پہاڑوں کو زمین کے لئے کھونٹا نہیں بنایا ہے تاکہ اس میں حرکت نہ پیدا ہو اور تم اس پر راحت و سکن کے ساتھ زندگی بسر کرسکو زمین کو ثابت و ساکن رکھنے کے لئے پہاڑوں کی حیثیت وہی ہے جو خیموں کے لئے لکڑیوں کی ہوتی ہے، جس طرح خیمے کی لکڑیاں اسے ہر چہار جانب سے کھینچ کر رکھتی ہیں، اسی طرح پہاڑ زمین کے کناروں کو کھینچ کر رکھتے ہیں، ورنہ زمین اپنے داخلی مادوں میں جوش و خروش کی وجہ سے ہر وقت ہلتی رہتی، اور مخلوق اس پر زندگی نہ گذار سکتی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ہم نے تمہیں مذکر و مؤنث بنایا ہے، تاکہ تمہارے درمیان انس و محبت پیدا ہو، اور تاکہ زندگی کے مسائل حل کرنے اور نسل انسانی کی افزائش اور اس کی تعلیم و تربیت میں تم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کروتخلیق انسانی اور ان کا مذکر و مؤنث ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے علم، اور اس کی حکمت و رحمت کے مظاہر ہیں۔

اور ہم نے تمہاری نیند کو تمہاری راحت و سکون کا سبب بنایا ہے اگر نیند نہ آتی تو آدمی کا بدن تھک کر چور ہوجاتا، اس کا سکون چھن جاتا اور اسے جنون لاحق ہوجاتا۔ نیند اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس کے ذریعہ آدمی کی کھوئی ہوئی طاقت واپس آجاتی ہے اور وہ تازہ دم ہو کر دوبارہ کاروبار حیات میں سرگرم ہوجاتا ہے۔

اور ہم نے رات کو تمہارے لئے لباس بنایا ہے، جس طرح لباس آدمی کے جسم کو ڈھانک لیتا ہے، اسیرطح رات کی تاریکی اسے ڈھانک لیتی ہے اور اسے سکون و راحت پہنچاتی ہے۔

اور ہم نے دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا ہے انسان دن کی روشنی میں اپنی اور اپنے بال بچوں کی روزی حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں چلاتا ہے، ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے اور مشاغل زراعت و تجاتر میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ پھر رات آجای ہے یہ تمام چیزیں باری تعالیٰ کیقدرت اس کے علم اور اس کی حکمت و رحمت کے مظاہر ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت