فهرس الكتاب

الصفحة 4144 من 6343

32 مشرک انسان کی قبیح صفت یہ ہے کہ جب اسے کوئی بیماری یا تکلیف لاحق ہوتی ہے، تو اپنے جھوٹے معبودوں سے منہ موڑ کر صرف ایک اللہ کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور خوب گڑ گڑا کر اس مصیبت سے نجات کے لئے دعائیں کرتا ہے اور جب اللہ بطور آزمائش اس کی دعا سن لیتا ہے اسے اس مصیبت سے نجات دے دیتا ہے اور اپنی کسی نعمت سے اسے نواز دیتا ہے تو فوراً ہی طغیان و سرکشی پر تل جاتا ہے اور لوگوں سے اپنی جھوٹی بڑائی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگتا ہے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ میں اس نعمت کا حقدار ہوں جبھی مجھے دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی خام خیالی کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ نہیں، وہ تو اللہ کی طرف سے اس کے لئے آزمائش تھی کہ اس کے بعد بھی طاعت و بندگی کی راہ اختیار کرتا ہے یا احسان فراموشی کر کے پھر اپنے جھوٹے معبودوں کے سامنے سجدہ ریزی کرنے لگتا ہے، لیکن اکثر مشرکین اس حقیقت سے ناواقف ہی رہتے ہیں۔

اس بات کی دلیل کہ کفر و شرک کے باوجود اللہ کی داد و دہش ان کے لئے بطور آزمائش تھی، یہ ہے کہ قارون اور دیگر نافرمانوں نے ان سے پہلے ایسی ہی بات کی، تو اللہ نے فوراً ہی انہیں پکڑ لیا، اور ان کی ساری دولت دھری کی دھری رہ گئی، یعنی ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ان کے برے اعمال کا نتیجہ تھا، اسی طرح کفار قریش کو بھی ان کے برے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا اور وہ اللہ کو عاجز نہیں بنا سکیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت