(37) اس آیت کریمہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ صفات بیان کی گئیں جو آپ کی پیغام رسانی کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاہد بنا کر مبعوث کیا تھا، جو لوگ آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ پر ایمان لائیں گے، قیامت کے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لئے خیر کی گواہی دیں گے اور جو لوگ آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ پر ایمان نہیں لائیں گے، ان کے خلاف آپ کفر و معصیت کی گواہی دیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مومنوں کو اللہ کی رحمت اور اجر عظیم کی بشارت دینے والے اور کافروں اور گناہگاروں کو جہنم کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وحی کے مطابق لوگوں کو اس کے دین اس کی بندگی اور اس کی وحدانیت کے اقرار کی دعوت دینے والے ہیں، آپ سیدھی را ہیک طرف لوگوں کی رہنمائی کے لئے اللہ کا روشن چراغ ہیں۔