15۔ اس آیت کریمہ میں بھی قرآن کریم کے تئیس سالوں میں نازل کیے جانے کی حکمت بیان کی گئی ہے، اور مشرکین مکہ کے اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے نبی ! اس کی حمت یہ ہے کہ کفار مکہ جب بھی کوئی کافرانہ اور معاندانہ اعتراض کریں گے، تو ہم بروقت انہیں ایسا مسکت جواب دیں گے کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی
آیت 34 میں انہی منکرین آخرت اور قرآن پر معاندانہ اعتراض کرنے والے مشرکین مکہ کا انجام بتایا گیا ہے کہ فرشتے انہٰں ان کے چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جائیں گے، اور کہیں گے یہ لوگ دنیا میں گمراہ تین لوگ تھے، اور آخرت میں اپنے انجام کے اعتبار سے بدترین لوگ تھے۔