32۔ سلسلہ کلام مشرکین مکہ سے متعلق ہے کہ وہ اپنے کفر و ضلالت پر ہی جمے رہیں گے، یہاں تک کہ جب انہیں اپنی موت کے آثار آنے لگیں گے اور ان کے گناہوں کے سیاہ بادل ان کی آنکھوں کے سامنے منڈلانے لگیں گے، تو کہیں گے کہ میرے رب ! مجھے مہلت دے، تاکہ دنیا میں رہ کر نیک کام کروں، تو اللہ تعالیٰ ان کی طلب کو رد کردے گا اور کہے گا کہ اب ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔
(کلا انھا کلمۃ ھو قائلھا) کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بات یونہی ان کی زبان سے نکل رہی ہے، اگر ایسا کر بھی دیا جائے تو بھی وہ اپنے کفر پر جمے رہیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت (28) میں فرمایا ہے: (ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ) اگر وہ دنیا کی طرف لوٹا بھی دیئے جائیں گے تو جس کفر و شرک سے انہیں روکا گیا تھا وہی دوبارہ کرنے لگیں گے۔
آیت (100) کے آخر میں فرمایا گیا کہ موت آجانے کے بعد ان کے اور دنیا کی طرف دوبارہ لوٹائے جانے کے درمیان دنیا کی باقی عمر حائل ہوجائے گی اور وہ عالم برزخ میں رہیں گے، یہاں تک کہ جب قیامت آئے گی تو وہ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے، لیکن وہ زندگی عمل کی نہیں بلکہ حساب و جزا کی زندگی ہوگی۔