سورۃ التکاثر مکی ہے، اس میں آٹھ آیتیں، اور ایک رکوع ہے
تفسیر سورۃ التکاثر
نام: پہلی آیت میں لفظ " التکاثر" آیا ے، یہی اس سورت کا نام رکھ دیا گیا ہے۔
زمانہ نزول: یہ سورت تمام کے نزدیک مکی ہے ابن مردویہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ (الھاکم التکاثر) مکہ میں نازل ہوئی تھی امام بخاری نے اسے مدنی کہا ہے اور دلیل میں ابی بن کعب کی روایت پیش کی ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول " لو ان لابن آدم وادیین من مال لتمنی وادیاثالثاً، ولا یملاجوف ابن آدم الا التراب" اگر ابن آدم کے پاس دو وادی بھر کر مال ہوتا، تو وہ تیسری وادی کی تمنا کرتا، ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی سے بھرے گا" کو قرآن کا حصہ سمجھتے تھے یہاں تک کہ (الھاکم التکاثر) نازل ہوئی۔ یہ روایت اس سورت کے مدنی ہونے کی دلیل اس طرح بنتی ہے کہ ابی بن کعب مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے، لیکن راجح یہی ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور ابی بن کعب کی روایت کی توجیہہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جو صحابہ مدینہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے، جب انہوں نے پہلی بار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی یہ سورت سنی تو سمجھے کہ یہ ابھی مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔