(23) تمام انبیائے کرام کی بعثت کا مقصد یہی تھا کہ وہ بنی نوع انسان کو صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیں گے اور انہیں غیروں کو اپنا معبود اور یارومددگار ماننے سے روکیں، مذکورہ بالا قوموں میں سب سے پہلی بیماری یہی پائی گئی کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک کیا جو دوسرے گناہوں کے ساتھ مل کر ان کی ہلاکت وبربادی کاسبب بنی اس لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے شرک کی شناعت وقباحت کو ایک مثال کے ذریعہ واضح کیا گیا کہ جو لوگ اللہ کے سوا غیروں کو اپنا یارومددگار مانتے ہیں اور ان کے سامنے سرجھکاتے ہیں ان کی مثال مکڑی اور اس کے جالے کی ہے مکڑی اپنا جالا اپنے اردگرد بن کرسمجھتی ہے کہ اب وہ سردی گرمی اور ہر دشمن سے محفوظ ہے لیکن وہ جالا کتنا کمزور ہوتا ہے اس کا علم سب کو ہے یہی حال مشرکوں اور ان کے اولیاء کا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اصنام ان کے کام آئیں گے حالانکہ ان کی عاجزی وبے بضاعتی کاجوحال ہے وہ سب کو معلوم ہے کہ اگر ایک مکھی بی ان بتوں پر بیٹھ جائے تو اسے بھگانے کی ان کے اندر سکت نہیں اور یہ بت اتنی واضح ہے کہ ادنی عقل کا انسان بھی اسے سمجھتا ہے لیکن شرک نے ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیا ہے اس لیے انہیں کچھ بھی سمجھ نہیں آتا ہے۔ اس لیے آیت 42 میں اللہ تعالیٰ نے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا کہ مشرکین اس کے سوا جن باطل معبودوں کی پرستش کرتے ہیں اسے ان (معبودوں) کا خوب علم ہے اور وہ غالب وحکیم ہے ان مشرکانہ اعمال کا بدلہ انہیں ضرور چکائے گا۔ آیت 43 میں فرمایا کہ اس طرح کی مثالوں سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ توحید وشرک کے مسائل کو اچھی طرح سمجھ لیں لیکن اس کی توفیق بھی اللہ انہی کو دیتا ہے جو اللہ کی ذات وصفات کاراسخ علم رکھتے ہیں اور جو دلائل وبراہی ان کی نگاہوں سے گذرتے ہیں ان میں غوروفکر کرتے ہیں۔