(11) اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس کا علم تمام چیزوں کو محیط ہے، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے، وہ آنکھوں کی خیانتوں اور دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے، تاکہ لوگ اس کی نافرمانی سے ڈریں، اور تقویٰ اور عمل صالح کی راہ اختیار کریں۔
" خیانت نظر" کی تشریح ابن عباس (رض) نے یہ کی ہے کہ آدمی کسی کے گھر میں جائے، وہاں کوئی خوبصورت عورت ہو جسے لوگوں سے نظر بچا کر دیکھنے کی کوشش کرے اور جب لوگوں کو اپنی طرف متوجہ پائے، تو نظر نیچی کرلے، لیکن اللہ نے اس کے دلکا حال جان لیا، اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کاش وہ اس عورت کی شرمگاہ کو بھی دیکھ لیتا !!
اللہ نے اپنے بارے میں یہ بھی خبر دی کہ اس کا فیصلہ نہایت عادلانہ ہوتا ہے، اس لئے کہ وہ اچھائی کا بدلہ اچھے انجام کے ذریعہ اور برائی کا بدلہ برے انجام کے ذریعہ دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے، اس کے برخلاف وہ معبود ان باطل جنیں مشرکین پکارتے ہیں کسی فیصلے کی قدرت نہیں رکھتے، اس لئے کہ وہ نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں اور اللہ تو ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے، اس لئے وہ بندوں کے درمیان عادلانہ فیصلے کی مکمل قدرت رکھتا ہے۔