فهرس الكتاب

الصفحة 5346 من 6343

(4) کافروں کی بطور عام بات ماننے سے منع کرنے کے بعد، اب بطور خاص مکہ کے بعض بڑے اشرار کی بات نہ ماننے کی نصیحت کی جا رہی ہے، جیسے ولید بن مغیرہ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے نبی ! آپ ہراس آدمی کی بات نہ مانئے جو باطل کو غالب کرنے کے لئے کثرت سے قسمیں کھاتا ہے اور جو حقیر اور عاجز و فاجر ہے، ہمیشہ دوسروں کی عیب جوئی کرتا ہے، لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لئے چغلی کھاتا ہے، بڑا ہی بخیل ہے، یا جو لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتا ہے، لوگوں کی جانوں اور ان کے مال و دولت پر زیادتی کرتا ہے، یعنی ظلم و زیادتی کا خوگر ہے اور کثرت سے نگاہ کرتا ہے، غلیظ الطبع، سخت گیر اور بدخو ہے اور ان تمام صفات کے ساتھ ساتھ، وہ قریش بھی نہیں ہے بلکہ ان کی طرف منسوب کردیا گیا ہے۔

آیات (14/15) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مال و جاہ اور اولاد کے غرور نے اسے اللہ کی آیتوں کی تکذیب اور اس افترا پردازی پر ابھارا ہے کہ یہ قرآن گزشتہ قوموں کے محض قصے اور حکایات ہے۔

آیت (16) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس کی پرپیشانی پر ایسا برا نشان ڈال دیں گے کہ وہ جب تک زندہ رہے گا اس نشان کے ذریعہ پہچانا جائے گا، جیسے وہ شخص ہوتا ہے جس کی ناک کاٹ دی جاتی ہے، جو بھی اسے دیکھتا ہے اس کے ناگوار منظر سے متاثر ہوتا ہے۔

مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد خنس بن شریق ہے، جو دراصل قبیلہ ثقیف کا تھا، لیکن اسے بنی زہرہ سے ملا دیا گیا تھا ایک دوسراقول ہے کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے، اس کے باپ نے اس کی پیدائش کے اٹھارہ سال بعد اس کا دعویٰ کیا تھا کہتے ہیں کہ میدان بدر میں اس کی ناک پر ایک کاری ضرب لگی تھی جس کا گہرا نشان زندگی بھر اسکی ناک پر باقی رہا۔

بعض مفسرین کا خیال ہے کہ (سنسمہ علی الخرطوم) کا تعلق روز قیامت سے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس دن اس کی پیشانی پر ایک ایسا قبیح المنظر نشان پیدا کر دے گا کہ وہ دیگر کافروں سے بالکل الگ پہچانا جائے گا، اس لئے کہ اس نے دنیا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تمام کافروں سے بڑھ کر عداوت کی تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت