15۔ سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس تخت کے بعض اوصاف بدل دئیے جائیں، تاکہ دیکھیں کہ بلقیس اسے اپنے سامنے دیکھ کر کیا جواب دیتی ہے، اور اس کی عقل و فہم کا اندازہ ہوسکے، چنانچہ جب وہ اپنے تخت کے قریب پہنچی تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا تمہارا تخت شاہی ایسا ہی ہے، تو اس نے کہا کہ ہو بہو ایسا ہی ہے، مفسرین لکھتے ہیں کہ اس نے یہ نہیں کہ کہ میرا ہی تخت شاہی ہے، اور نہ یہ کہا کہ نہیں میرا تخت تو اور ہے اور یہ جواب اس کی عقلمندی کی دلیل تھی تاکہ پہلے جواب کی صورت میں کوئی اسے جھٹلائے نہیں اور دوسرے جواب کی صورت میں کوئی اسے جاہل نہ کہے۔
سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی ذہانت کا اعتراف کیا اور اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے اگر اسے عقل و ذہانت سے نوازا ہے، تو ہمیں اس کے قبل اپنی ذات برحق اور دین اسلام کی صداقت کا علم دے رکھا ہے، اور اسی وجہ سے ہم مسلمان کی زندگی گذار رہے ہیں، اور اسے ایک اللہ کی عبادت سے اب تک اس بات نے روک رکھا ہے کہ اس کی پوری قوم کافر تھی اور غیر اللہ کی عبادت کرتی تھی، تو یہ بھی انہی کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک کرتی تھی، امام شوکانی نے آیت 43 کو اللہ کا کلام قرار دیا ہے، جس میں سلیمان و بلقیس کی گفتگو کے بعد اللہ نے اس کے مشرک ہونے کا سبب بیان کیا ہے۔