فهرس الكتاب

الصفحة 4375 من 6343

(4) مشرکین مکہ کے لئے دعوت توحید کا اعادہ کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اے میرے نبی ! اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو بغیر کسی توقف و تردد کے یہی جواب دیں گے کہ انہیں اس ذات واحد نے پیدا کیا ہے جو بڑے مقام پر عزت والا ہے اور جس کا علم ہر چیز کو محیط ہے اور ان کا یہ اعتراف ان کے جرم کو اور بڑھا دیتا ہے اور انہیں شدید ترین سزا کا حقدار بنا دیتا ہے کہ اس اعتراف کے باوجود اس کے سوا غیروں کی عبادت کرتے ہیں، بلکہ پتھر کے بنے بتوں کی پرستش کرتے ہیں جو سمع و بصر سے عاری اور نفع و ضرر سے بالکل خالی ہوتے ہیں۔

آیت (10) میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! اس عزیز و علیم ذات کی صفت یہ بھی ہے کہ اس نے زمین کو تمہارے لئے بچے کے پالنا کی طرح ہموار اور آرام دہ بنایا ہے جس پر تم چلتے ہو، سوتے ہو، اور اپنی تمام ضروریات زندگی پوری کرتے ہو اور اس نے تمہارے لئے زمین میں پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان راستے بنائے ہیں، تاکہ تم ان پر چل کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکو اور اپنی معیشت کے لئے تجارتی کاروبار انجام دے سکو۔

اور اس کی صفت یہ بھی ہے کہ وہ آسمان سے اپنی حکمت و مصلحت کے تقاضے کے مطابق مناسب مقدار میں بارش نازل کرتا ہے جس سے وہ مردہ شہروں کو زندگی دیتا ہے۔

آیت (11) کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح بارش کے قطروں سے مردہ زمین میں جان آجاتی ہے، پودے لہلہا اٹھتے ہیں اور انواع و اقسام کے پھل اور پھول اگ آتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ قیامت کے دن تمام مردہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا جو زندہ ہوتے ہی میدان محشر کی طرف دوڑ پڑیں گے اور اپنے رب کے حضور اپنے اعمال کا حساب دینے کے لئے دست بستہ کھڑے ہوجائیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت