فهرس الكتاب

الصفحة 4495 من 6343

(14) یہ آیت کریمہ بعث بعد الموت اور قیامت کے دن کی جزا و سزا کی دلیل ہے، اس لئے کہ یہ بات حکمت سے اری ہے کہ اللہ نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو بغیر کسی مقصد کے پیدا کیا ہے اور ایک وقت آئے گا کہ سب کچھ فنا ہوجائے گا اور اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوگا۔ یہ تو ایسی لغوبات ہوگی جو عقلمند انسانوں کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی، تو اس ذات باری تعالیٰ کے بارے میں کیسے کہی جاسکتی ہے جس نے انسانوں کو عقل کی نعمت سے نوازا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے کائنات کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ جن و انس اس کی عبادت کریں اور اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں، تو جو شخص ایسا کرے گا اسے وہ قیامت کے دن اس کے نیک اعمال کا اچھا سے اچھا بدلہ دے گا اور جو ایسا نہیں کرے گا اور کفر و شرک کی راہ اختیار کرے گا، اسے وہ ذلیل و رسوا کرے گا اور بدترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔

انہی حقائق کی تائید کے طور پر اللہ تعالیٰ نے آیت (40) میں فرمایا کہ قیامت کے دن (جو حق و باطل کے درمیان فیصلے کا دن ہوگا) تمام لوگ میدان محشر میں اکٹھا کئے جائیں گے اور آیات (41/42) میں فرمایا کہ اس دن کوئی رشتہ دار یا دوست اپنے کسی دوسرے رشتہ دار یا دوست کے کام نہیں آئے گا، البتہ جن پر اللہ نے دنیا میں رحم کیا ہوگا اور ایمان باللہ اور توحید باری تعالیٰ کی راہ اختیار کی ہوگی، ان پر اللہ آخرت میں بھی رحم کرے گا، یعنی اپنے کسی نیک بندے کو اس کے لئے شفاعت کی اجازت دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد فرمایا کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے پر پوری طرح قادر ہے، اور اپنے نیک بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت