(27) اللہ تعالیٰ نے کفار قریش کی دعا اس لیے قبول نہیں کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے درمیان موجودتھے جب آپ مسلمانوں کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے تو میدان بدر میں اللہ تعالیٰ نے تمام صنادید قریش کو اپنے عذاب کی زد میں لے لی ا۔ ترمذی نے ابو موسیٰ اشعری سے روایت کی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے مجھ پر دو امان نازل کیا ہے، کہ جب تک آپ ان کے درمیان ہوں گے اللہ انہیں عذاب نہیں دے گا اور جب تک وہ اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے اللہ انہیں عذاب نہیں دے گا، جب میں دنیا سے رخصت ہوجاؤں گا تو ان کے لیے دوسرا ذریعہ امان استغفار قیامت تک باقی رہے گا۔