فهرس الكتاب

الصفحة 3354 من 6343

(40) مفسرین لکھتے ہیں کہ قارون وموسی (علیہ السلام) کا چچازاد بھائی تھا دوسری رائے یہ ہے کہ وہ ان کا چچا تھا اور تیسری رائے ہے کہ ان کا خالہ زاد بھائی تھا بہرحال وہ تھا بنی اسرائیل کا ایک فرد، لیکن کفر وسرکشی کی وجہ سے فرعون سے جاملا تھا اور اللہ نے کفر کے بالخصوص جن تین سرغنوں کی طرف موسیٰ کو نبی بناکربھیجا تھا ان میں سے ایک تھا دوسراہامان تھا جوفرعون کا قبطی وزیر تھا اور تیسرا راس الکفر فرعون تھا اس قارون کو اللہ نے بہت بڑا مالدار بنایا تھا اور یہی اس کے کفر وطغیان کا سبب تھا اور کبر کی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور کہتا تھا کہ میں نے یہ دولت اپنے زور بازو سے حاصل کیا ہے کہتے ہیں کہ اس نے اظہار کبر کے لیے غیروں کے مقابلے میں اپنا کپڑا ایک بالشت لمبا بنالیا تھا۔ کفروسرکشی کے اس سرغنہ کا ذکر یہاں اہل قریش کی تنبیہ کے لیے کیا گیا ہے جنہوں نے مکہ میں اپنی سرداری، مال ودولت اور دنیاوی مال ومتاع کے ضائع ہونے کے خوف سے نبی کریم پر ایمان لانے سے انکار کردیا تھا اور کہتے تھے کہ اگر ہم نے محمد کی پیروی کی تو دنیائے عرب ہمیں اچک لے جائے گی اور ہمارا وجود ختم ہوجائے گا اور ہماری تجارت خطرے میں پڑجائے گی گویا کہ کفر واستکبار میں ان کی حالت قارون جیسی ہی تھی اس لیے اس کا واقعہ اور انجام بیان کرکے انہیں تنبیہ کی گئی کہ وہ اپنی دولت کے نشہ میں محمد کی دعوت نہ ٹھکرائیں جس طرح قارون نے موسیٰ کی دعوت کوٹھکرادیا تھا ورنہ ان کا انجام بھی اسی جیسا ہوگا۔ اس قارون کو اس کی قوم یعنی بنی اسرائیل کے مسلمانوں نے نصیحت کی کہ دنیا کی چمک دمک پر اتنا زیادہ اتراؤ مت کہ اللہ کی یاد سے غافل ہوجاؤ اللہ ایسی خوشی کو پسند نہیں کرتا جس کے سبب انسان آخرت سے غافل ہوجائے اور دنیا کوہی سب کچھ سمجھ بیٹھے کیونکہ ہر برائی اور ہرفساد کی جڑیہی ہے ور اللہ نے تمہیں دولت دی ہے اسے کارخیر میں خرچ کرکے آخرت کی کامیابی طلب کرو اور اس دولت سے اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا نہ بھولو بغیر فضول خرچی کیے اور جس طرح اللہ نے تم پر احسان کیا ہے تم بھی اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرنا نہ بھولو اور اس مال کے ذریعہ سے زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس لیے کہ اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت