(4) جو مشرکین مکہ بعث بعدالموت کا انکار کرتے تھے ان کی حالت بیان کی گئی ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے تو انہیں اس بات سے شدید حیرت ہوتی ہے اور کہتے ہیں یہ بالکل غیر معقول ہے کہ مرنے سے پہلے ہماری جو حالت تھی، مرنے کے بعد دوبارہ پھر اسیح ال میں لوٹا دیئے جائیں گے، یعنی زندہ کئے جائیں گے۔
انہوں نے بعث بعد الموت کا مزید مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ جب ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی اور ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گی، تو کیا وہ دوبارہ جمع کی جائیں گی اور پھر نئے سرے سے ہڈیاں بنادی جائیں گی، اگر بفرض محال ایسا ہوگا تو یہ بڑے خسارے کی بات ہوگی۔
مفسر ابوالسعود لکھتے ہیں کہ آیات (11، 12) میں ان کے کفر مکرر کو بیان کیا گیا ہے، یعنی دوسری زندگی کے انکار اول کے بعد انہوں نے دوبارہ اس حقیقت کا انکار کیا، جسے ان دونوں آیتوں میں بیان کیا گیا ہے۔