فهرس الكتاب

الصفحة 4539 من 6343

(15) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخطاب کر کے ان لوگوں کے حال پر اظہارت عجب کیا ہے، جن کا معبود ان کا نفس ہوتا ہے، جو اللہ کے دین کے بجائے اپنے نفس کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی انہیں ضلالت و گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دیتا ہے، اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ ان میں قبول حق کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔

(واضلہ اللہ علی علم) کی دوسری تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ چونکہ اپنے نفس کا وہ بندہ جان رہا ہوتا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہئے، اس کے باوجود اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتا، اس لئے اللہ تعالیٰ اسے گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دیتا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دیتا ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیتا ہے، اس لئے نہ وہ خیر کی کوئی بات سن پاتا ہے، نہ ہی خیر و شر کی تمیز کر پاتا ہے، اور نہ حق پر چلنے کی اسے توفیق ملتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سج کا حال وہ ہو جو اوپر بیان کیا گیا، یعنی جسے اللہ گمراہ کر دے، اسے ہدایت کی توفیق کون دے سکتا ہے، لوگو ! تم یہ باتیں سن کر نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے اور ایمان و عمل کی زندگی اختیار کر کے اپنے رب کی رضا اور جنت کے حقدار کیوں نہیں بنتے؟!

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت