(3) جن آسمانوں کے بارے میں اوپر بیان ہوا کہ ان کی تخلیق میں کوئی نقص و خلل نہیں پایا جاتا ہے، انہی کے بارے میں یہاں مزید تفصیل بیان کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا کو کواکب اور ستاروں کے ذریعہ زینت بخشی ہے ان ستاروں سے روشنی پھوٹتی ہے، اسی لئے انہیں یہاں " مصابیع" کہا گیا ہے، یعنی جس طرح چراغ سے روشنی ملتی ہے اسی طرح یہ ستارے بھی روشنی دیتے ہیں۔ شوکانی لکھتے ہیں کہ بعض ستارے آسمان دنیا کے اوپر والے آسمانوں میں پائے جاتے ہیں، لیکن وہ ایسے نظر آتے ہیں جیسے آسمان دنیا پر ہی ہوں، اس لئے کہ احرام سماویہ اتنے صیقل اور شفاف ہیں کہ اوپر کے آسمانوں میں موجود کواکب کی روشنی ان سے چھن کر نیچے تک آتی رہتی ہے۔
اور بعض ستاروں کے ذریعہ ان شیاطین کو مارا جاتا ہے جو چھپ کر فرشتوں کا کلام سننے کی کوشش میں آسمان دنیا کے قریب ہونا چاہتے ہیں حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ شیاطین ان ستاروں کے ذریعہ نہیں مارے جاتے جو آسمانوں میں ثابت ہیں، بلکہ ان سے انگارے نکلتے ہیں جو شیاطین کا پچیھا کرتے ہیں، قتادۃ کہتے ہیں کہ اللہ نے ستاروں کی تخلیق کے تین فوائد بتائے ہیں: وہ آسمانوں کو زینت بخشتے ہیں، ان کے ذریعہ شیاطین کو مارا جاتا ہے اور وہ بحر و بر میں سفر کرنے والوں کے لئے نشان راہ کا کام دیتے ہیں۔ ان تہی
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الصافات (6) سے (10) تک میں فرمایا ہے: (انا زینا السماء الدنیا بزینۃ الکوکب و حفظامن کل شیطان مارد، لایسمعون الی الملا الا علی ویقدفون من کل جانب، دحور اولھم عذاب و اصب، الامن خطف الخطفۃ فاتبعہ شھاب ثاقب) " ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا اور سرکش شیطان سے اس کی حفاظت کی، عالم بالا کے فرشتوں (کی باتیں) سننے کے لئے وہ کان بھی نہیں لگا سکتے ہر طرف سے بھاگنے کے لئے نہیں انگاروں سے مارا جاتا ہے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے، مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو فوراً ہی اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے۔ "