فهرس الكتاب

الصفحة 6160 من 6343

(3) اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا تو راہ حق کی طرف ان کی رہنمائی بھی کی، چنانچہ اس نے ابتدائے آفرنیش سے انبیاء مبعوث کئے، کتابیں نازل فرمائیں، عقل و خرد سے نوازا اور حق و باطل کے درمیان تمیز کی قوت عطا کی۔

آیت (13) میں فرمایا کہ آخرت اور دنیا کی تمام چیزوں کا وہی تنہا مالک ہے اور وہی ان میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرتا ہے، ساری مخلوق عاجز و درماندہ اور محتاج و فقیر ہے، ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے، اس لئے دنیا و آخرت کی کوئی بھی بھلائی صرف اسی سے مانگی جانی چاہئے اور طغیان و سرکشی کرنے والے کو اس کے عقاب و عذاب سے ڈرتے رہنا چاہئے۔

اسی لئے آیات (14) سے (18) تک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگو ! میں تم ہیں جہنم کی اس آگ سے ڈرائے دے رہا ہوں جو ہمیشہ بھڑکتی رہے گی، کبھی سرد نہیں پڑے گی اور اس میں نہایت بدنصیب آدمی داخل ہوگا جو رب العالمین کے دین حق کیتکذیب کرے گا اور کفر و عناد کے سبب اس سے روگردانی کرے گا اور اس بھڑکتی آگ سے وہ مرد مومن بچا لیا جائے گا جو اپنے رب سے غایت درجہ ڈرتا ہوا زندگی گذارے گا، اور اپنے نفس کو بخل اور دیگر معاصی سے پاک کرنے کے لئے اپنا مال بھلائی کے کاموں میں خرچ کرتا رہے گا۔

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیتیں ابوبکر صدیق (رض) کے بارے میں نازل ہوئی تھیں بعض نے مفسرین کا اس پر اجماع نقل کیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ابوبکر (رض) ان نیک لوگوں میں بدرجہ اولی داخل ہیں جن کی صفات ان آیات میں بیان کی گئی ہیں اس لئے کہ وہ صدیق تھے تقی تھے، کریم تھے، اور اپنا مال اپنے رب کی خوشنودی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصرت و تائید کے لئے خرچ کرتے تھے، انہوں نے محض اپنے رب کریم کی رضا کی خاطر بہت سارے اموال خرچ کئے، لوگوں کا ان پر کوئی احسان نہیں تھا جسے چکانے کے لئے وہ ایسا کرتے تھے بہت سیس ردار ان عرب پر بھی ان کے احسانات تھے اسی لئے سردار ثقیف عروہ بن مسعود نے ان سے صلح حدیبیہ کے دن کہا تھا: اللہ کی قسم ! اگر تم نے مجھ پر احسان نہ کیا ہوتا جس کا بدلہ میں نے تمہیں نہیں چکایا ہے تو میں تمہاری تلخ باتوں کا جواب ضرور دیتا اور صحیحین میں ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جس نے دو جوڑے اللہ کی راہ میں خرچ کئے، اسے جنت کے تمام داروغے پکاریں گے، اے اللہ کے بندے ! یہ دروازے بہتر ہے تو ابوبکر (رض) نے پوچھا، اے اللہ کے رسول ! جو لوگ ان میں سے الگ الگ دروازوں سے پکارے جائیں گے وہ تو پکارے ہی جائیں گے، کیا کوئی شخص ان میں سے ہر ایک دروازے سے پکارا جائے گا؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ہاں اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ انہی میں سے ہوں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت