(51) یہاں سے ان نعمتوں کا ذکر ہورہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں تاکہ ان میں غور و فکر کر کے اس کی وحدانیت کا اقرار کرے، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پتھروں، بالوں اور دیگر چیزوں کے ذریعہ بنے ہوئے گھر دیئے، تاکہ ان میں سکون و راحت حاصل کرسکیں، یہ اللہ کی نعمت ہے، اگر اللہ چاہتا تو انہیں آسمانی سیاروں کی طرح ہر دم حرکت کرتا ہوا زمین کی طرح ساکن و جامد بنا دیتا، انہیں چوپایوں کے چمڑے سے بھی بنے ہوئے گھر دیئے، جنہیں وہ سفر و حضر میں اٹھائے پھرتے ہیں، اور ان چوپایوں کے بالوں اور اون سے بنے ہوئے سامان، بستر اور کمبل وغیرہ دیئے جن سے لوگ ایک مدت تک استفادہ کرتے رہتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سایہ حاصل کرنے کے دوسرے بہت سے ذرائع پیدا کیے ہیں تاکہ اگر کسی کے پاس خیمہ یا مکان نہیں ہے یا حالت سفر میں ہے تو ان ذرائع کو استعمال کرے مثلا درخت، دیوار یا چھتری سے سایہ حاصل کرے۔
اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں میں غاروں بنائے ہیں جنہیں انسان بہت سے مواقع پر نہایت مفید اغراض کے لیے استعمال کرتا ہے، مثلا سفر کرتا ہوا انسان کبھی ان میں اپنے دشمن، بارش، سردی اور گرمی سے پناہ لیتا ہے، اس زمانے میں پہاڑوں میں سرنگیں بنا کر فوج، ہوائی جہاز اور اسلحہ جات کے لیے مامون جگہ بنائی جاتی ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اون، روئی اور کتان وغیرہ کے بنے ہوئے لباس مہیا کیے، تاکہ ان کے زریعہ سردی اور گرمی سے بچا جائے، اور لوہے سے بنے ہوئے زرہ، خود اور بکتر بند گاڑیاں دیں تاکہ انہیں جنگوں میں استعمال کر کے تلواروں، نیزوں، توپوں، راکٹوں اور میزائلوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام نعمتیں اور اسی طرح کی دوسرے بہت سی ایسی دینی اور دنیاوی نعمتیں انسانوں کو دی ہیں، جن میں آدمی غور کرے تو دین اسلام کو قبول کرلے اور اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔
آیت (82) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ گر ان تمام نعمتوں کو گنائے جانے اور حق کو اس وضاحت کے ساتھ بیان کے جانے کے باوجود اسلام سے روگردانی کرتے ہیں، تو آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، اور اب ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا۔
آیت (83) میں فرمایا کہ مشرکین مکہ جانتے ہیں کہ مذکورہ بالا تمام نعمتوں کا خالق اللہ ہے، لیکن کہتے ہیں کہ یہ ہمیں ہمارے معبودوں کی سفارشات سے ملی ہیں، اور اس طرح ان میں سے اکثر لوگ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں اور کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔ بعض مفسرین کی رائے ہے کہ یہاں نعمت سے مراد نبی کریم کی نبوت ہے، کفار مکہ جانتے تھے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں، لیکن کبر و عناد کی وجہ سے انکار کرتے تھے۔