فهرس الكتاب

الصفحة 5144 من 6343

(14) جب مومنوں اور منافقوں کے درمیان وٹی دیوار حائل ہوجائے گی، تو منافقین شدت حسرت ویاس کے ساتھ پھر اہل ایمان کو پکاریں گے اور کہیں گے کہ کیا ہم تمہاری ہی طرح بظاہر مومن نہیں تھے؟ تمہاری مسجدوں میں نماز نہیں پڑھتے تھے اور تمہاری ہی طرح دوسرے نیک اعمال نہیں کرتے تھے، پھر آخر آج ہمارا یہ حشرکوں ہو رہا ہے؟!

تو مومنین انہیں جواب دیں گے کہ ہاں تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے، بظاہر ہماری ہی طرح مومن تھے اور نیک اعمال کرتے تھے لیکن فی الحقیقت نہ تم مومن تھے نہ ہی تمہاری نیت صحیحت ھی اور نہ تمہارے اعمال میں اخلاص وللہیت تھی، تم لوگ کفر ونفاق کی بیماری میں مبتلا رہے اور شہوتوں اور لذتوں کی بندگی کرتے رہے اور ہر لمحہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنوں کے لئے برا ہی سوچتے رہے اور جھوٹی تمناؤں سے اپنے آپ کو دھوکہ دیتے رہے کہ ہمیں بھی اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا اور مخلص مسلمانوں کی طرح ہم بھی جنت میں جائیں گے۔

(وغرتکم الامانی) کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم (منافقین) یہی تمنا کرتے رہے کہ ایک دن مسلمان ضرور کمزور ہوجائیں گے اور تم اسی دھوکے میں پڑے رہے، یہاں تک کہ موت نے تمہیں آدبوچا اور تمہیں توبہ کی توفیق نہیں ملی، یا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی مدد کی، اپنے دین کو غالب کیا اور تمہاری تمنا خاک میں مل گئی کہ مسلمان کمزور ہوجائیں گے اور اللہ کے حلم اور اس کی جانب سے مہلت دیئے جانے کا تم نے غلط مطلب نکالا، شیطان کے بہاوے میں آگئے، اور کفر و نفاق پر مصر رہے یہاں تک کہ موت آگئی۔

آیت (15) میں مومنوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ منافقو ! آج اگر تم زمین بھر کر بھی سونا پیش کرو گے تاکہ تمہاری جان عذاب نار سے نجات پا لے تو ایسا نہیں ہوگا اور آج تمہارے ساتھ یہی انجام اہل کفر کا بھی ہوگا تم سب کا ٹھکانا جہنم ہوگا تم سب کو جہنم لپیٹ لے گی، جو تم سب کے لئے بڑا ہی براٹھکانا ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت