فهرس الكتاب

الصفحة 5189 من 6343

(5) بعض صحابہ نے چاہا کہ بنی نضیر کے چھوڑے ہوئے اموال دیگر اموال غنیمت کی طرح ان کے درمیان تقسیم کردیئے جائیں، حالانکہ وہ اموال غنیمت نہیں تھے، اس لئے کہ اس کے لئے صحابہ کو جنگ نہیں کرنی پڑی تھی اور نہ دور دراز کا سفر کرنا پڑا تھا، بلکہ صرف دو میل کی مسافت پیدل چل کر بنی نضیر کے محلات تک پہنچ گئے اور انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، اس لئے بغیر کسی مزاحمت کے صرف چند دنوں کے بعد سب کچھ چھوڑ کر وہاں سے کوچ کر گئے ایسے مال کو فقہ اسلامی کی اصطلاح میں " مال فئے" کہا جاتا ہے اور وہ مال غنیمت کی طرح تقسیم نہیں کیا جاتا بلکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار تھا کہ وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں۔

آیت (7) میں آیت (6) کی تشریح کی گئی ہے، اسی لئے دونوں کے درمیان حرف عطف نہیں استعمال کیا گیا ہے، اور (اھل القری) سے مراد بنی نضیر کے یہود ہیں اور اس مال کا حکم یہ ہے کہ یہ اللہ، اس کے رسول، رسول اللہ کے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہے، ایسا نہیں ہے کہ اسے بھی مال غنیمت کی طرح تقسیم کردیا جائے تاکہ مالدار مزید مالدار بن جائیں، اور فقرائے صحابہ کی محتاجی دور نہ ہو۔

(کی لایکون دولۃ بین الاغنیاء منکم) کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ دور جاہلیت میں یہ نظام تھا کہ اموال غنائم صرف مالداروں میں تقسیم ہوتے تھے، اللہ تعالیٰ نے رسم جاہلی کو توڑنے کے لئے آیت کا یہ حصہ نازل فرمایا اور بتایا کہ اموال غنیمت میں تمام مجاہدین کا حق ہے، اور " مال فئی" میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی مرضی کے مطابق تصرف کریں گے۔

بعض مفسرین کا خیال ہے جسے ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ سورۃ الحشر کی یہ آیت مجمل ہے جس کی تفصیل سورۃ الانفال کی آیت (14) (واعلموا انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ و للرسول ولذی القربی و الیتامی والمساکین و ابن السبیل) میں بیان کی گئی ہے بلکہ قتادہ کا قول ہے کہ سورۃ الحشر کی یہ آیت سورۃ الانفال کی مذکورہ بالا آیت کے ذریعہ منسوخ ہوچکی ہے، یعنی " مال فئی" اب کوئی چیز نہیں ہے، سب پر مال غنیمت کا ہی اطلاق ہوگا اور اموال غنیمت پہلے پانچ حصوں میں تقسیم کئے جائیں گے، چار حصے مجاہدین کے لئے اور پانچواں حصہ پھر پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے ایک حصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ان کے رشتہ داروں کے لئے، ایک حصہ یتیموں کے لئے، ایک حصہ مساکین کے لئے اور ایک حصہ مسافروں کے لئے

آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نصیحت کی ہے کہ انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے جو ملے اس پر راضی رہنا چاہئے اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں کچھ نہ بھی دیں تو تب بھی ان کے فیصلے پر راضی رہنا چاہئے اس میں اموال غنیمت اموال فئی اور دیگرت مام چیزیں داخل ہیں، علماء نے اسی آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہر صحیح حدیث قرآن کے حکم میں داخل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت