فهرس الكتاب

الصفحة 1780 من 6343

(14) کفار مکہ جو اعمال بتوں کی رضا کے لیے کرتے تھے یا جن سے مقصود ریا کاری ہوتی تھی، مثلا شہرت اور نام و نمود کے لیے مال خرچ کرتے تھے، یا مہمانوں کے لیے کئی کئی اونٹ ذبح کرتے تھے، تاکہ لوگ کہیں کہ فلاں شخص بڑا سخی اور بڑا مہمان نواز ہے ایسے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے راکھ سے تشبیہ دی ہے جسے تیز آندھی اڑا کرلے جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفرقان آیت (23) میں فرمایا ہے: (وقدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلناہ ھباء منثورا) یعنی انہوں نے جو اعمال کیے تھے ہم نے ان کی طرف متوجہ ہو کر انہیں پراگندہ ذروں کی طرح کردیا، اور سورۃ آل عمران آیت (117) میں فرمایا: (مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیاۃ الدنیا کمثل ریح فیھا صر اصابت حرث قوم ظلموا انفسھم فاھلکتہ) کہ یہ کفار جو خرچ کرتے ہیں اس کی مثال یہ ہے کہ ایک تند ہوا چلی جس میں پالا تھا، جو ظالموں کی کھیتی پر پڑا اور اسے تہس نہس کردیا، اس سے بڑھ کر ان کی گمراہی کیا ہوسکتی ہے کہ قیامت کے دن ان کے اعمال برباد ہوجائیں گے اور انہیں ان کا کوئی اجر و ثواب نہیں ملے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت