(15) مشرکین مکہ کے لئے ان کے رب کی طرف سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ جو ہدایت آئی، اس سے انہوں نے منہ پھیر لیا، اور اپنی من مانی تمناؤں سے رشتہ جوڑ لیا اور اس خیال باطل کو اپنے دل میں جگہ دے دی کہ ان کے بت ان کے لئے سفارشی بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دنیا میں آدی کی مرضی اور خوراہش کے مطابق معاملات انجام نہیں پاتے ہیں، بلکہ تمام امور کا تعلق اللہ کی مرضی اور اس کی مشیت سے ہے، اس لئے انہوں نے کیسے سمجھ لیا ہے کہ ان کے جھوٹے معبود ان کی مرضی کے مطابق ان کی سفارش کریں گے۔ یقیناً ان کی یہ بہت بڑی جرأت بے جا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ آمدہ یقین کو چھوڑ کر اپنے ظن باطل کی پیروی کر رہے ہیں اور اللہ کی شریعت سے آزاد ہو کر اپنی خواہش نفس کی پیروی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مومن آیت (71) میں فرمایا ہے: (ولو اتبع الحق اھوا ھم لفسدت السماوات والارض ومن فیھن) " اگر دین شریعت ان کی خواہش کا نام ہوجاتا تو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز درہم برہم ہوجاتی"