فهرس الكتاب

الصفحة 1164 من 6343

(133) اوپر کی آیت میں قرآن کریم کے فضائل وخصائص بیان کئے گئے کہ یہ کتاب عظیم دل کی آنکھوں کو کھولتی ہے اور اسے بصیرت عطا کرتی ہے، اور بھلائی کی طرف رہنمائی کرتے ہے، اور عذاب نار سے بچنے کا ذریعہ ہے، اسی مناسبت سے یہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ جب قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی ہو تو اسے غور سے سنو، تاکہ اس کے معانی کو سمجھو اور اس میں جو پنونصائح ہیں ان سے مستفید ہو سکو کفار قریش کی طرح نہ کرو جو اپنے ساتھیوں سے کہا کرتے تھے، کہ جب محمد قرآن پرھنا شروع کرے تو تم لوگ اسے نہ سنو اور تشویش پیدا کرو تو کہ کوئی اس پر کان نہ دھرسکے۔ (فصلت:26)

اس آیت کے ظاہری الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی تلاوت چاہے نماز میں ہو رہی ہو یا کسی اور وقت میں اسے غور سے سننا اور خاموشی اختیار کرنا واجب ہے، امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن جنبل کا یہی مسلک ہے، ان حضرات نے اس آیت کے علاہ صحیح مسلم کو انس، عائشہ اور ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جس میں آیا ہے کہ امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے جب تکبیر کہو، اروجب قرات کرے تو خاموش رہو، اور مسند احمد اور کتب سنن میں ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ دوسری حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جس میں آیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سلام پھیر نے کے بعد فرمایا کہ قرآن پڑھنے میں میرے ساتھ کیوں جھگڑا جاتا ہے، یعنی میں بھی پڑھتا ہوں اور تم لوگ بھی پڑھتے ہو۔

لیکن دوسری صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کر یم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جن پر قرآن کریم نازل ہوا) سورۃ فاتحہ کی قرات کو اس حکم عام سے مستثنی قرار دیا ہے اور اس کا پڑھنا ہر مقتدی کے لیے واجب قرار دیا ہے، جیسا کہ ابو داؤد اور ترمذی نے عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز سے سلام پھر نے کے بعد پوچھا کہ کیا تم لوگ امام کے پیچھے پڑھتے ہو تو صحابہ نے کہا کہ ہاں اے اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا کہ ام القرآن) فاتحہ) کے علاوہ اور کچھ نہ پڑھو اس لیے کہ جو سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی، ایک روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب میں جہری قرات کرو‏ں تو ام القرآن کے علاوہ کچھ نہ پڑھو، اسے ابوداؤد، نسائی اور دارقطنی نے روایت کی ہے، اور اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

ابن حبان نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا تم لوگ جب امام قرات کر رہا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے پڑھتے ہو ؟ ایسا نہ کرو اور تمہیں سورۃ فاتحہ اپنے دل میں پڑھ لینا چاہیئے امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری نے اسی کو تر جیح دیا ہے اور ہر نماز میں چاہے سری ہو یا جہر سورۃ فاتحہ کی قرات کو واجب قرار دیا ہے، دیگر محدثین کا بھی یہی مسلک رہا ہے حیرت ہے کہ امام احمد بن جنبل رحتہ اللہ سے جو اپنے ج زمانے میں محد ثین کے امام تھے کیسے چوک ہوگئی اور کیوں ان احادیثکو نظر انداز کر گئے سبحان من لاینسی یہ بحث سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے اسے دوبارہ دیکھ لینا مفید رہے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت