(3) لیکن ان کی قوم نے ہزار کوشش کے باوجود ان کی دعوت قبول نہیں کی، تو انہوں نے اپنے رب کے حضور شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے پروردگار میں اپنی قوم کو دن رات توحید اور عمل صالح کی طرف بلاتا رہا، لیکن وہ حق سے دور ہی ہوتے گئے اور میری دعوت حق کا ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا، بلکہ میں نے جب بھی انہیں ایمان باللہ کی دعوت دی، تاکہ تو ان کی مغفرت فرما دے، تو ان کی نفرت اور ان کا استکبار بڑھتا ہی گیا اور انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ڈال لیں، تاکہ حق کی آواز کیں ان پر اثر انداز نہ ہوجائے اور انوں نے مجھ سے اور میری دعوت سے شدت نفرت کی وجہ سے اپنے چہروں پر کپڑے ڈال لئے، تاکہ مجھ پر ان کی نگاہ نہ پڑے اور انہوں نے محض عناد کی وجہ سے اپنے کفر و شرک پر اصرار کیا، اور استکبار میں آ کر حق کا انکار کردی، یعنی میں نے جوں جوں اپنی دوت تیز کردی ان کا شر بڑھتا گیا اور خیر کو قبول کرنے کی ان کی صلاحیت و قابلیت گھٹتی گئی۔