(1) اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ضعیفی اور حقارت یاد دلائی ہے کہ اس کا باپ (آدم) چالیس سال تک مٹی کا ایک مجسمہ بنا پڑا رہا ایک دوسرے قول کے مطابق ایک سو بیس سال تک، مٹی گارے اور ٹھیکرے کے مراحل سے گذرتا رہا، تب جا کر اللہ تعالیٰ نے اس میں روح ڈالی اس پوری مدت میں وہ مٹی کا ایک تودہ رہا، اللہ کے سوا کسی کو کچھ معلوم نہ تھا کہ اس تو وہ کا کیا ہوگا اور اس کا کیا نام ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں روح پھونکی اور اسے انسان بنایا۔