فهرس الكتاب

الصفحة 3981 من 6343

(34) آیت (941) میں کفار عرب کی جس بات کی تردید کی گئی ہے اور جس پر ان کی زجر و توبیخ کی گئی ہے، اسی کا یہاں صراحت کے ساتھ انکار کیا گیا ہے کہ وہ لوگ اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ ازدواج بتاتے ہیں حالانکہ شیاطین الجن جانتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اگر اللہ سے ان کا رشتہ ہوتا تو وہ انہیں آگ کا عذاب کیسے دیتا، رشتہ داری کا تو تقاضا تھا کہ اللہ انہیں عذاب نہ دیتا معلوم ہوا ہے کہ اللہ کے بارے میں یہ بدترین جھوٹ ہے بہت سے مفسرین نے یہاں " الجنۃ" سے مراد فرشتے لئے ہیں اور آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ کفار عرب اللہ اور فرشتوں کے درمیان رشتہ بتاتے ہیں۔ یہ بات اللہ کے خلاف افترا پردازی ہے۔ فرشتے بھی جانتے ہیں کہ جو کفار ایسی بات کہتے ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔

آیت (951) میں اللہ تعالیٰ نے نے مذکورہ بالا افتراپردازی سے اپنی پاکی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی ذات ولادت و نسب جیسے عیب و نقص سے پاک ہے۔ آیت (061) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے مخلص بندے اپنے رب کی طرف اس قسم کے عیوب و نقائص کو منسوب نہیں کرتے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ اہل ایمان جن جہنم میں داخل نہیں کئے جائیں گے اس تفسیر کے مطابق (الاعباد اللہ امخلصین) کا تعلق (انھم المحضرون) سے ہوگا یعنی اہل ایمان جنوں کے سوا دوسرے شیاطین الجن جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت