فهرس الكتاب

الصفحة 6179 من 6343

(3) ان نعمتوں کا تقاضا تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب کا شکر ادا کرتے اس لئے اللہ نے آپ کو شکر کی تعلیم دی اور کہا کہ آپ یتیم کے ساتھ برابر تاؤ نہ کیجیے اس سے تنگ دل نہ ہو یئے، نہ اسے ڈانٹئے بلکہ اس کا خیال کیجیے اور اس کے ساتھ ایسا چھا برتاؤ کیجیے جیسا آپ چاہیں گے کہ آپ کی وفات کے بعد دوسرے آپ کی اولاد کے ساتھ کریں۔

اور مانگنے والے محتاج و مسکین کے ساتھ سخت کلامی کے ساتھ نہ پیش آئے بلکہ جو میسر ہو اسے دے دیجیے اچھے انداز میں اس کو واپس کردیجیے۔

بعض لوگوں نے " سائل" سے دین کا علم طلب کرنے والا مراد لیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہر قسم کے لوگ علم دین حاصل کرنے کے لئے آتے تھے، ان میں بادیہ نشین اور سخت زبان لوگ بھی ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ نرمی سے پیش آیئے، جیسا کہ سورۃ عبس میں اللہ نے نابینا صحابی کے ساتھ بے اعتنائی پر آپ کی تنبیہہ کی۔

اور آپ کے رب نے آپ پر جو احسانات کئے ہیں، ان کا ذکر کر کے اپنے رب کی خوب تعریف بیان کیجیے اور قول و فعل کے ذریعہ ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے رہئے تاکہ رب العالمین آپ کو مزید نعمتوں سے نوازے، آپ سے خوش ہو اور آپ سے محبت کرے۔

مجاہد اور کلبی نے یہاں " نعمت" سے قرآن کریم مراد لیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت تھی، اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کو اسے پڑھ کر سناتے رہئے، مجاہد کا ایک دوسرا قول ہے کہ یہاں " نعمت" سے مراد " نبوت" ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سرفراز فرمایا تھا زجاج کا بھی یہی قول ہے اور مفہوم یہ ہوگا کہ آپ کو اللہ نے جو پیغام دے کر مبعوث کیا ہے اسے لوگوں تک پہنچاتے رہئے۔

شو کانی لکھتے ہیں کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روکا ہے، ان کا تعلق آپ کی امت سے بھی یہغ، یعنی امت کے ہر فرد کو ان سے منع کیا گیا ہے۔ وباللہ التوفیق۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت