(16) موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کا یہ حکم سن کر کہا کہ میرے رب میں نے ایک قبطی کو قتل کردیا تھا اسلیے ڈرتا ہوں کہ وہاں کے لوگ مجھے قتل کردیں گے اور میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اور گفتگو کی زیادہ قدرت رکھتے ہیں اس لیے انہیں بھی اپنا رسول اور میرا معاون ومددگار بنادے اگر میں اکیلا گیا تو ڈر ہے کہ وہ لوگ مجھے جھتلادیں گے وہ میرے ساتھ ہوں گے تو میں جو کچھ فرعون سے کہوں گا اسے وہ اپنی فصیح زبان میں مزید شرح وبسط کے ساتھ اس کے سامنے بیان کریں گے۔ اللہ نے ان کی طلب منظور کرلی اور کہا کہ ہم آپ کے بھائی کو آپ کا معین ومددگار بناتے ہیں اور آپ دونوں ہمارے معجزات لے کر فرعون کے پاس جائیے بہرحال غلبہ آپ کو اور آپ کے پیروکاروں کوہی ہوگا۔