(9) اس آیت کریمہ کا تعلق آیت (2) میں مذکور بنی نضیر کے محاصرہ اور پھر ان کی جلا وطنی سے ہے، جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کے ساتھ ان کی بستی کا محاصرہ کرلیا تو سردار ان منافقین نے ان کو پیغام بھیجا کہ تم لوگ ثابت قدم رہو اور اپنے قلعوں سے نکلو، ہم لوگ تمہیں مسلمانوں کے حوالے نہیں ہونے دیں گے اور اگر جنگ کی نوبت آئے گی تو تمہارے شانہ بہ شانہ جنگ کریں گے اور اگر تمہیں مدینہ سے جانا پڑا تو ہم بھی تمہارے ساتھ جائیں گے۔
چنانچہ بنی نضیر منافقین کے اس جھوٹے وعدے کی وجہ سے کچھ دنوں تو ڈٹے رہے، لیکن جب انہوں نے ان کی طرف سے کوئی عملی اقدام نہیں دیکھا تو اللہ کا ایسا کرنا ہوا کہ ان پر مسلمانوں کا شدید رعب اور دبدبہ طاری ہوگیا اور فوراً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر کی کہ انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ یہاں سے انیں نکل جانے کی اجازت دے دی جائے، اس شرط کے ساتھ کہ وہ اپنے اونٹوں پر ہتھیار کے علاوہ جتنا سامان لے جا سکیں لے جائیں۔
آیت (21) میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی کذب بیانی، افترا پردازی اور نفاق و بزدلی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ انہوں نے کب اپنے وعدوں کی پابندی کی ہے کہ وہ بنی نضیر کا ساتھ دیتے ان کے ساتھ قتال کرتے اور اگر بالفرض انہیں مجبوراً قتال میں ان کا ساتھ دینا بھی پڑتا تو وہ کبھی بھی ثابت قدم نہیں رہتے، بلکہ انہیں میدان جنگ میں تنہا چھوڑ کر بھاگ پڑتے۔
آیت (31) میں مسلمانوں کو یہود و منافقین کی بزدلی اور ان کے میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے کا سبب یہ بتایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہاری تلواروں کی کاٹ سے زیادہ ڈرتے ہیں، انہوں نے اللہ کا مقام سمجھا ہی نہیں، اسی لئے ان کے دل اللہ کے بجائے لوگوں کے ڈر سے کانپتے ہیں جو کسی بھی نفع یا نقصان کی قدرت نہیں رکھتے حقیقی سمجھ تو یہ ہے کہ بندہ اپنے خالق کے مقام و مرتبہ کو سمجھے، اسی سے ڈرے، اسی سے امید رکھے اور اس کی محبت کو ہر شخص اور ہر چیز کی محبت پر مقدم رکھے۔