(1) سورۃ الضحی میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنے تین احسانات کا ذکر فرمایا تھا اس سورت میں تین دوسری نعمتوں کا ذکر کر کے آپ پر احسان جتایا ہے:۔
فرمایا کہ کیا ہم نے آپ کا سینہ کھول نہیں دیا ہے اور اس میں وسعت نہیں پیدا کردی ہے، تاکہ آپ وحی الٰہی کو بآسانی قبول کریں، اخلاق حسنہ کو اپنائیں، اور دعوت اسلامیہ کی راہ میں آپ کو جو تکلیف پہنچے اسے برداشت کریں اور نبوت کی عظیم ذمہ داریوں کا بار اٹھائیں۔ جیسا کہ سورۃ الزمر آیت (22) میں آیا ہے: (افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھ علی نور من ربہ) " کیا جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے، پس وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی میں ہے (ایس جیسا ہوسکتا ہے جس کا دل تنگ ہو۔ " )
اور ہم نے آپ کے دل سے اس بوجھ کو ہٹا دیا جو آپ کی پیٹھ کو توڑ رہا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اگرچہ نبوت سے پہلے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا، بت کی پرستش نہیں کی اور شراب نہیں پی، لیکن آپ کے دل میں ہر دم یہ شدید احساس رہتا تھا کہ آپ نے نبوت سے پہلے کی چالیس سالہ زندگی میں اپنے رب کی عبادت نہیں کی اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے کوئی واضح عمل نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے ذریعہ آپ کے دل سے اس بوجھ کا ازالہ کردیا ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح آی (2) میں یوں فرمایا ہے: (لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک ومات خر) " تاکہ اللہ آپ کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دے۔ "
اور ہم نے آپ کا مقام اونچا کردیا ہے، آپ کا ذکر خیر ہر جگہ عام کردیا ہے، آپ کی رسالت کے اعتراف کو قبول ایمان کی شرط قرار دے دی ہے، قتادہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت دونوں جگہ آپ کا مقام اونچا کردیا ہے چنانچہ اذان، اقامت اور خطبے میں:" اشھدان لا الہ الا اشد اشھد ان محمد رسول اللہ" پکارا جاتا ہے اور جب تک دنیا باقی رہے گی، آپ کا نام اللہ کے نام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔
اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود و سلام بھیجتے رہیں: (یا یھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیماً) " اے ایمان والو ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود و سلام بھیجتے رہو" (الاحزاب: 65) ۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی طرف سے خبر دی ہے کہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا اللہ اس پر دس بار درود بھیجے گا اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اپنی اطاعت کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا فرمایا: (اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول) " مسلمانو ! اللہ کی بات مانو، اور رسول اللہ کی بات مانو" (النساء: 95) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وما اتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا) " مسلمانو ! تمہیں جو کچھ رسول دیں اسے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ۔ "
گویا اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذکر جمیل سے آسمانوں اور زمینوں کو بھر دیا اور جو شہرت و مقام آپ کو حاصل ہوا، وہ دنیا میں کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ (ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآء واللہ ذوالفضل العظیم) " یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنا فضل دیتا ہے اور اللہ عظیم فضل والا ہے" (الحدید: 12) اللھم صل و سلم وبارک علی رسولک محمد و علی آلہ وصحبہ اجمعین