فهرس الكتاب

الصفحة 3824 من 6343

(1) اللہ تعالیٰ نے اس سورت کریمہ کی ابتدا فرشتوں کی قسم کھا کر اپنی ذات کے لئے اثبات و حدانیت کے ذریعہ کی ہے، عبداللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، عکرمہ، سعید بن جبیر، مجاہد اور قتادہ وغیر ہم کا خیال ہے کہ " الصآفات" سے مراد وہ فرشتے ہیں جو آسمان میں اپنے رب کے سامنے صفیں ابندھ کر کھڑے ہوتے ہیں، مسلم کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" کیا تم لوگ اسی طرح صفیں نہیں باندھو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے حضور صفیں باندھتے ہیں؟ لوگوں نے پوچھا: فرشتے اپنے رب کے سامنے کس طرح صفیں باندھتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اگلی صفوں کو پوری کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے ملے رہتے ہیں۔ "

" الزاجرات" سے مراد دیا تو وہ رفشتے ہیں جو بادلوں کو ہانکتے ہیں یا وہ جو لوگ کے دلوں میں نیکی اور بھلائی کا الہام کر کے گناہوں سے روکتے ہیں۔ (التالیات ذکرا) سے مراد وہ فرشتے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت