(1) ابتدائی تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے انجیر، زیتون، طورسینا اور بلد امین (مکہ مکرمہ) کی قسم کھانے کے بعد فرمایا کہ ہم نے انسان کو سب سے اچھی شکل و صورت میں پیدا کیا ہے، لیکن اس نے اللہ کی اس نعمت کا اور دیگر بے شمار اور بیش بہا نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا اور اپنی زندگی لہو و لعب میں لگا دی تو وہ اللہ کی نگاہ میں گرتا چلا گیا یہاں تک کہ اس کا ٹھکانا جہنم کی آخری کھائی میں بنا دیا گیا۔
البتہ اس بدترین انجام سے وہ لوگ بچا لئے جائیں گے جن پر اللہ نے یہ احسان کیا کہ انہیں ایمان، عمل صالح اور اخلاق حسنہ کی توفیق دی، انہیں اللہ تعالیٰ جہنم سے دور کر دے گا، اور جنت میں اعلیٰ مقام پر فائز کرے گا جس کی نعمتیں اور خوشیاں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔
اکثر مفسرین کے نزدیک لفظ " التین" سے مراد انجیر ہے جسے لوگ کھاتے ہیں اور " الزیتون" مشہور پھل ہے۔
جس سے تیل نکالا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انجیر کی قسم اس لئے کھائی ہے کہ وہ گٹھلی سے خالی ہونے کے سبب جنت کے پھل سے زیادہ مشابہ ہے بہت سے اطباء کا خیال ہے کہ انجیر انسانی جسم کے لئے بہت زیادہ نفع بخش ہے اسی طرح زیتون میں بھی بہت سے فوائد ہیں اسے کھایا جاتا ہے اس کا تیل استعمال کیا جاتا ہے اور مختلف دواؤں میں اہم ترین جزاء کے طور پر ڈالا جاتا ہے۔
اور (وطور سینین) فلسطین میں وہ سینا پہاڑ ہے جہاں انسانی تاریخ کا عظیم ترین واقعہ پیش آیا تھا، بنی اسرائیل کے عظیم بنی موسیٰ بن عمران سے اللہ تعالیٰ اس پہاڑ کے دامن میں کئی بار ہم کلام ہوا تھا اور رب العالمین کی تجی سے ایک بار وہ پہاڑ چکنا چور ہوگیا تھا۔
اور (البلد الامین) سے مراد ام القریٰ (مکہ مکرمہ) ہے، جہاں اللہ کا گھر ہے اور جس کے اردگرد کو اللہ تعالیٰ نے " حرم" بنا دیا ہے اور اسے " بلد امین" اس لئے کہا گیا ہے کہ ہاں انسان نہیں چڑیا اور جانور میں امن میں ہوتے ہیں۔
دوسری جگہ: طور سینا ہے جہاں اللہ نے موسیٰ بن عمران سے بات کی تھی اور تیسری جگہ مکہ ہے، جو بلد امین ہے جس میں داخل ہوجانے والا امن میں آجاتا ہے، اور یہاں اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا تھا۔