فهرس الكتاب

الصفحة 782 من 6343

(132) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو قیامت کی ہو لنا کیوں سے ڈرایا ہے اس دن اور تو انبیاء کرام کا حال یہ ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ ان کی قوموں کی طرف سے انہیں کیا جواب ملا۔ تو رعب ودہشت کا یہ عالم ہوگا کہ ان کا جواب جانتے ہوئے بھی اس کا علم اللہ کے حوالے کردیں گے، اور جب انبیاء ورسل کا یہ حال ہوگا، تو دوسروں کا کیا حال ہوگا، اور دوسرے کب جرات کریں گے کہ وہ اللہ سے بات کریں، علماء نے لکھا ہے کہ"ماذا اجبتم"مجہول کا صیغہ ہے استعمال کیا گیا ہے یعنی"تمہیں کیا جواب دیا گیا"اللہ نے یہ نہیں کہا کہ"ان قوموں نے تمہیں کیا جواب دیا"اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ انہتائی درجہ غضبناک ہوگا، صحیح بخاری کی روایت ہے کہ میرا رب اس دب اتبا غضبناک ہوگا کہ نہ اس سے پہلے کبھی اتنا ہوا تھا اور نہ اس کے بعد۔ فخرالدین رازی لکھتے ہیں: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے کہ مختلف قسم کے شرائع واحکام بیان کرنے کے بعد عقائد والہیات، احوالانبیاء، یا احوال قیامت کی بات کرتا ہے، اور اس سے مقصود ان مذکورہ احکام وشرائع کی تاکید وہ توفیق ہوتی ہے، اس آیت کریمہ کی بھی یہی حثیت ہے کہ مختلف الانواع احکام و شرائع بیان کرنے کے بعد اللہ نے قیامت کی ہولناکیوں کو بیان کرنا شروع کیا ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت