سورۃ الاخلاص مکی ہے، اس میں چار آیتیں اور ایک رکوع ہے
تفسیر سورۃ الاخلاص
نام: چونکہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی خالص توحید بیان کی گئی ہے، اسی للئے اس کا نام " الاخلاص" رکھا گیا ہے۔
زمانہ نزول: یہ سورت ابن مسعود، حسن، عطا، عکرمہ اور جابر کے نزدیک مکی ہے اور قتادہ ضحاک اور سدی اور ایک قول کے مطابق ابن عباس کے نزدیک مدنی ہے۔
احمد، بخاری (تاریخ میں) اور تمذی وغیرہ نے ابی بن کعب (رض) سے روایت کی ہے، مشرکین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا، اے محمد ! تم اپنے رب کا نسب بیان کرو۔ تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ (قل ھو اللہ احد) نازل فرمائی۔
اور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے " کتاب الاسماء و الصفات" میں ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ یہود کعب بن اشرف اور حییی بن اخطب کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا اے محد ! تم اپنے اس رب کی صفت بیان کرو جس نے تمہیں مبعوث کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے (قل ھو اللہ احد) نازل فرمایا۔
ان دونوں روایتوں کے علاوہ بھی روایتیں ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اسی طرح کا سوال دوسرے لوگوں نے بھی کیا، اور ہر بار اس کا جواب دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہی سورت تلاوت کرنے کا حکم دیا۔
معلوم ہوا کہ یہ سورت پہلی بار مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ آنے کے بعد جب بھی کسی نے اللہ کی صفت بیان کرنے کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے دوبارہ نازل فرمایا اور آپ کو حکم دیا کہ سائل کو یہ سورت سنا دیں شیخ الاسلام ابن تیمیمہ کہتے ہیں کہ یہ سورت پہلی بار مکہ میں نازل ہوئی، اس کے بعد مدینہ منورہ میں جب بھی کسی یہودی یا نصرانی نے مشرکین مکہ جیسا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو نئے سرے سے نازل فرمایا۔
فضیلت:۔ اس سورت کی فضیلت کے بارے میں امام بخاری نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو ایک فوجی دستہ کا سردار بنا کر بھجیا وہ شخص جب بھی نماز پڑھاتا تو اپنی قرأت (قل ھو اللہ احد) پڑھ کر ختم کرتا واپسی کے بعد صحابہ نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بتائی تو آپ نے کہا:" تم لوگ اس سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتا تھا" لوگوں نے پوچھا تو اس نے کہا: اس سورت میں رحمٰن کی صفت بیان کی گئی ہے اس لئے میں اسے پڑھنا چاہتا ہوں۔ نی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" تم لوگ اسے بتا دو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔ "
اور احمد اور بخاری وغیرہ نے ابو سعید خدری (رض) سے رایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (قل ھو اللہ احد) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے" انتہی اس لئے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کی توحید بیان کی گئی ہے۔