(1) روز آخرت اور جزا و سزا کا عقیدہ ہی وہ بنیادی عقیدہ ہے جس پر ایمانلائے بغیر کسی بھی فرد یا سوسائٹی کی اصلاح ناممکن ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے جا بجا مختلف پیرائے میں اس کی وضاحت کی ہے اور لوگوں کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے۔
اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے اسی حقیقت کو باور کرانا چاہتا ہے اور انسانوں یک دل و دماغ میں اسی عقیدہ بعث بعد الموت کو اتارنا چاہا ہے، تاکہ اس پر ایمان لا کر لوگ اپنی آخرت کی فکر میں لگ جائیں اور اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح کریں، چنانچہ آیات (1) سے (13) تک بارہ حادثات و واقعات کا ذکر بطور شرط بیان کئے جانے کے بعد، اسی حقیقت کو بطور جواب بیان کیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے اور اس کے بعد جب بھی حادثات و قوع پذیر ہوں گے، تو ہر فرد اس دن یقینی طور پر جان لے گا کہ وہ دنیا سے اپنے ساتھ کیسے اعمال لے کر آیا ہے، جن کا آج اسے بدلہ چکایا جائے گا۔
ان بارہ حادثات میں سے چھ وقوع قیامت سے پہلے یا اس کے بعد فوراً ظہورپذیر ہوں گے۔
1۔ آفتاب اپنی جگہ سے ہٹا دیا جائے گا اور اس کی روشنی غائب ہوجائے گی۔
2۔ ستارے ٹوٹ کر زمین پر بکھر جائیں گے۔
3۔ شدید لرزش اور زلزلہ کے زیر اثر پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور غبار بن کر فضا میں اڑنے لگیں گے۔
4۔ لوگ شدت رعب و خوف سیدس ماہ کی حاملہ اونٹنیوں سے غافل ہوجائیں گے جو عربوں کے نزدیک سب سے اچھی اور قیمتی دولت ہوتی ہے، تو پھر دوسریچ یزوں سے ان کی غفلت کا کیا حال ہوگا یعنی لوگ نہایت پریشان و بدحال ہوں گے، انہیں اپنی جان کے بچاؤ کے سوا کسی چیز کی فکر نہیں ہوگی۔
5۔ شدت زلزلہ اور ٹوٹ پھوٹ کے زیر اثر زمین پر پائے جانے والے تمام وحشی جانور اسے چھپنے کی جگہوں سے نکل کر مارے رعب و دہشت کے اکٹھے ہوجائیں گے اور انسانوں کے قریب آ کر اپنا پناہ لینے کی کوشش کریں گے اور پھر مر کر ڈھیر لگ جائیں گے۔
6۔ تمام سمندروں کا پانی ابل پڑے گا اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک ہوجائیں گے، بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ سمندروں کا پانی غائب ہوجائے گا اور اس کی جگہ آگ بھڑکنے لگے گی قفال کا قول ہے کہ ممکن ہے جہنم سمندروں کی تہوں میں ہو اور جب دنیا کی مدت ختم ہوجائے گی تو اس کی آگ بھڑک کر اوپر آجائیگی۔
باقی چھ قیامت کے دن ظہورپذیر ہوں گے:
7۔ اللہ تعالیٰ انسانی جسموں کو دوبارہپیدا کر کے ان کی روحوں کو ان میں داخل کر دے گا، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ تمام نیکو کار جنت میں اور تمام بدکار جہنم میں اکٹھا کردیئے جائیں گے عطاء کا قول ہے کہ مومنوں کی شادی حوروں سے کر دیجائے گی اور کفار شیاطین کے ساتھ جہنم میں اکٹھا کردیئے جائیں گے۔
8۔ بعض قبائل عرب کا دستور تھا کہ جب کسی کے گھر بچی پیدا ہوتی تو عار سے بچنے کے لئے اسے زندہ درگور کردیتے یہ ایک بہت بڑا مجرمانہ فعل تھا، جس کا وہ اپنی شدید جہالت و نادانی کے سبب ارتکاب کرتے تھے ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن شدید غضبناک ہوگا اور شدت غیظ و غضب کی وجہ سے ان کی طرف سے منہ پھیر لے گا اور ان زندہ درگور کی گئی بچیوں سے پوچھے گا کہ ان ظالموں نے تمہیں کس جرم کی پاداش میں زندہ درگور کردیا تھا، یعنی تم نے تو کوئی جرم نہیں کیا تھا، اس لئے آج ان ظالموں کو ہم شدید ترین عذاب دیں گے۔
حافظ سیوطی نے اپنی کتاب " الاکلیل" میں لکھا ہے، یہ آیت دلیل ہے کہ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا گناہ عظیم ہے۔
9۔ قیامت کے دن لوگوں کے نامہ ہائے اعمال حساب کے لئے کھول کر ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے اور ہر شخص اپنے اچھے اور برے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگے گا۔
10۔ اس دن آسمان اپنی جگہوں سے اس طرح الگ کردیئے جائیں گے جس طرح مذبوح جانوروں کے چمڑے ادھیڑ دیئے جاتے ہیں۔
(11) اس دن جہنم کی آگ اللہ کے دشمنوں کے لئے پوری طرح تیز کردی جائے گی قتادہ کہتے ہیں کہ جہنم کی آگ اللہ کے غضب اور بنی آدم کے گناہوں کے سبب بھڑک اٹھے گی۔
12۔ جنت ایمان وتقویٰ والوں سے بالکل قریب کردی جائے گی، ابن زید نے " زلفت" کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنت متقیوں کے لئے سنواری اور خوبصورت بنائشی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا حادثات بطورش رط بیان کرنے کے بعد، آیت (14) میں ان کا جواب بیان فرمایا کہ جس دن یہ حادثات رونما ہوں گے اس دن ہر آدمی کو دنیا میں اپنے کئے کا علم ہوجائے گا، جن لوگوں نے نیکیاں کی ہوں گی، ان کو اپنی نیکیوں کا علم ہوجائے گا اور وہ جنت میں بھیج دیئے جائیں گے اور جنہوں نے برے اعمال کئے ہوں گے، انہیں اپنی برائیوں کا علم ہوجائے گا، اور وہ جہنم میں دھکیل دیئے جائیں گے، سورۃ آل عمران آیت (30) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (یومتجدکل نفس ماعملت من خیر محضرا) " جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکیوں اور برائیوں کو اپنے سامنے پائے گا۔ "
مسند احمد میں عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جو شخص قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے، وہ (اذا الشمس کورت) اور (اذا السماء انفطرت) اور (اذا السماء انشقت) پڑھے۔