فهرس الكتاب

الصفحة 3561 من 6343

(21) اہل ایمان جب کفار مکہ کے ظلم وجور سے تنگ آ کر کہتے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمارے اور تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور تمہارے کفر و عناد کا تمہیں مزا چکھائے گا تو ان کا مذاق اڑاتے، کیونکہ وہ قیامت کے منکر تھے اور کہتے کہ اگر تم واقعی سچے ہو تو ذرا جلدی کرو اور اپنے رب سے کہو کہ اب دیر نہ کرے اور وہ دن آہی جائے تو اللہ تعالیٰ نے آیت (92) میں ان کا جواب یہ دیا کہ اس کی آمد میں کوئی شبہ نہیں ہے، اس لئے تم اس سے پہلے ایمان لے آؤ کیونکہ جب وہ دن آجائے گا تو پھر کسی کافر کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا اور نہ اسے مہلت دی جائے گی کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اسلام میں داخل ہوجائے فرصت عمل اور مہلت توبہ صرف اسی دنیا میں دی گئی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت