فهرس الكتاب

الصفحة 3962 من 6343

(32) ساتواں واقعہ یونس (علیہ السلام) کا ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں عراق کے شہر نینویٰ والوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا تھا، اس زمانے میں نینویٰ آشوریوں کا ایک عظیم شہر تھا، جہاں ایک لاکھ سے زیادہ بنی اسرائیل کے لوگ رہتے تھے، جنہیں آشوری قید کر کے لے گئے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہی کی ہدایت کے لئے یونس (علیہ السلام) کو نبی بنا کر فلسطین سے نینویٰ بھیجا تھا۔ یونس (علیہ السلام) نے انہیں ایمان کی دعوت دی، لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا، تو یونس (علیہ السلام) نے انہیں عذاب کی دھمکی دی اور جب عذاب آنے میں تاخیر ہوئی تو یونس (علیہ السلام) ناراض اور تنگ دل ہو کر شہر سے نکل کر سمندر کی طرف چل پڑے۔ جب بندرگاہ پہنچے تو وہاں ایک کشتی کہیں روانہ ہونے کے لئے تیار تھی، اس پر سوار ہوگئے چونکہ اس کا وزن زیادہ تھا، اس لئے بیچ سمندر میں جا کر رک گئی ناخدا کی رائے ہوئی کہ کشتی کا وزن کم کرنا ضروری ہے ورنہ سارے لوگ ڈوب جائیں گے، قرعہ اندازی میں یونس (علیہ السلام) کا ہی نام نکلا، چنانچہ انہیں لوگوں نے سمندر میں پھینک دیا اور ایک بڑی مچھلی نے آ کر نگل لیا، اس لئے وہ اپنے رب کی اجازت کے بغیر اپنی قوم کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔

آیت (341) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یونس (علیہ السلام) چونکہ اس ابتلاء و آزمائش سے قبل کثرت سے نماز پڑھتے تھے اور ہمیشہ تسبیح و تہلیل اور ذکر و عبادت میں مشغول رہتے تھے، اسی لئے اللہ نے ان پر رحم کیا اور انہیں (لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلامین) کے ورد کا الہام کیا، جس کی برکت سے مچھلی نے اللہ کے حکم سے انہیں ساحل سمندر پر لاکر ڈال دیا، ورنہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے یونس (علیہ السلام) بیمار ہوگئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا یہ سامان کیا کہ وہاں فوراً یقطین کا ایک درخت اگ آیا جس کے پتے ان پر سایہ فگن ہوگئے اور انہیں دھوپ اور مکھی سے بچانے لگے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اللہ نے ان کے لئے ایک دودھ دینے والی ہر نی کو مسخر کردیا جو صبح و شام انہیں دودھ پلانے کے لئے ان کے پاس آجایا کرتی، یہاں تک کہ وہ بالکل تندرست ہوگئے اور اپنی قوم کے پاس واپس گئے تو دیکھا کہ وہ سب مسلمان ہوچکے ہیں اور ان کے جانے کے بعد انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی تھی اس لئے اللہ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا تھا۔

آیات (741، 841) میں بتایا گیا ہے کہ یونس (علیہ السلام) جس قوم کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے تھے ان کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے زیادہ تھی، وہ لوگ جب اللہ پر ایمان لے آئے، اسلام کو بحیثیت دین قبول کرلیا اور یونس (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت پر ایمان لے آئے اور شرک و کفر سے تائب ہوگئے تو اللہ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا اور انہیں ایک وقت مقرر تک دنیا کی نعمتوں سے مستفید ہونے کا موقع دے دیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت