فهرس الكتاب

الصفحة 6101 من 6343

(9) ابن آدم کی جو حالت اوپر بیان کی گئی ہے، اس پر نکیر کی گئی ہے کہ اسے اپنے رب کا احسان فراموش، ناشکر گزار بندہ اور جزع فزع کرنے والا نہیں ہونا چاہئے، نہ ہی اسے یتیموں کا مال ہڑپ جانا چاہئے اور نہ غایت درجہ بخیل اور مال سے شدید محبت کرنے والا ہونا چاہئے اس آیت کریمہ میں لفظ " کلا" کے ذریعہ اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص دنیا میں ان مذموم صفات کے ساتھ متصف ہوگا وہ روز قیامت کف افسوس ملے گا جبکہ ایسا کرنا اس کے کسی کام نہیں آئے گا فرمایا گیا کہ جب زمین پوری شدت کے ساتھ اس طرح ہلا دی جائے گی کہ اس پر موجود پہاڑ پاش پاش ہوجائیں گے اور اس کی سطح برابر ہوجائے گی، اور رب العالمین اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے سامنے آجائے گا اور ظہور قیامت میں ادنیٰ سا بھی شبہ باقی نہیں رہے گا اور آسمانوں پر موجود تمام فرشتے اپنے رب کے سامنے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ قطار در قطار کھڑے ہوجائیں گے اور اس دن فرشتے جہنم کو زنجیروں کے ذریعہ کھینچ کر مخلوق کے سامنے لائیں گے، اسے سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور کافر کو یقین ہوجائے گا کہ یہی اس کا ٹھکانا ہے سورۃ النازعات آیت (39) میں گذر چکا ہے: (وبرزت الجحیم لمن یری) " اور ہر دیکھنے والے کے سامنے جہنم ظاہر کی جائے گی۔ "

اس دن ہر آدمی دنیا کی گئی کوتاہیوں کو یاد کرے گا اور اپنے رب کی طاعت و بندگی اور اعمال صالحہ میں سستی اور تقصیر کو سوچ سوچ کر حسرت و ندامت میں ڈوبا جائے گا اور اپنے آپ سے کہے گا، اے کاش ! میں نے اپنی اس آخرت کی زندگی کے لئے دنیا میں اچھے کام کئے ہوتے، لیکن ان حسرتوں اور ندامتوں کا اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اسی بات کو سورۃ الفرقان آیات (27/28) میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ (ویوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا، یویلتا لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلاً) " اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا، ہائے کاش ! میں نے رسول کی راہ اختیار کی ہوتی، ہائے افسوس ! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت