فهرس الكتاب

الصفحة 2598 من 6343

(34) جس قیامت کے بارے میں اوپر کہا گیا ہے کہ اس دن تمام جن و انس اللہ کے پاس ضرور لوٹ کر جائیں گے اس کے قریب ہونے کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ وہ رکاوٹ جو ذوالقرنین نے یاجوج و ماجوج کو روکنے کے لیے کھڑی کی تھی، ہٹا دی جائے گی اور وہ زمین میں تیزی کے ساتھ پھیل جائیں گے، اور جدھر سے گزریں گے ہر چیز کو تباہ و برباد کردیں گے، اور کوئی ان کا مقابلہ نہ کرسکے گا اس وقت قیامت بالکل قریب ہوگی جس کا وعدہ برحق اللہ نے بندوں سے کر رکھا ہے۔

اور اہل کفر جب قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو مارے خوف و ہراس کے ان کی آنکھیں پتھرا جائیں گی اور کف افسوس ملتے ہوئے کہنے لگیں گے ہائے ہماری بد نسیبی، ہم تو اس دن کی کامیابی کے لیے تیاری کرنے سے بالکل ہی غافل تھے، ہمیں تو یقین ہی نہیں تھا کہ قیامت آئے گی، ہم نے تو اپنے آپ پر بڑا ہی ظلم کیا کہ آج یہ روز سیاہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس وقت کا افسوس اور اس دن کی توبہ ان کے کسی کام نہ آئے گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت