9۔ اس آیت کریمہ میں بھی مسلمانوں کو عتاب کیا گیا ہے اور ان پر احسان بھی جتایا گیا ہے کہ اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے تمہیں درگزر کردیا، ورنہ جیسی غلطی تم لوگوں نے کی تھی، اللہ کا شدید عذاب تم پر نازل ہونا چاہیے تھا۔
آیت (15) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اخلاقی طور پر اس معاملے میں کتنے پست ہوگئے تھے کہ اس خبر کو سن کر بغیر تحقیق کیے دوسروں سے بیان کرتے رہے اور سمجھتے رہے کہ یہ کوئی بڑا گناہ نہیں ہے اور یہ افواہ لوگوں میں پھیلانے سے تم پر کوئی زمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے، حالانکہ یہ بات اللہ کی نگاہ میں بہت بڑی تھی، اس کا تعلق رسول اللہ عائشہ، ابوبکر اور نبی کے گھرانے کی عزت و ناموس سے تھا۔
آیت (16) میں مزید فرمایا گیا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب تم لوگوں نے یہ بری بات سنی، اسی وقت اس کا انکار کردیتے، اور اپنی زبان پر ایک کلمہ بھی ایسا نہ آنے دیتے جس سے یہ افترا پردازی لوگوں میں پھیلتی، اور صاف کہہ دیتے کہ یہ نبی کی عزت و ناموس کے خلاف ایک سازش اور افترا پردازی ہے۔