فهرس الكتاب

الصفحة 5033 من 6343

سورۃ الواقعہ مکی ہے، اس میں چھیانوے آیتیں اور تین رکوع ہیں

تفسیر سورۃ الواقعہ

نام: سورت کی پہلی آیت میں موجود لفظ " الواقعۃ" اس کا نام کھ دیا گیا ہے، جو روز قیامت کا نام ہے۔ مہایمی کے حوالے سے قاسمی نے لکھا ہے کہ چونکہ یہ سورت قیامت میں رونما ہونے والے واقعات کے بیان سے بھری پڑی ہے، اسی لئے اس کا نام " والواقعۃ" یعنی روز قیامت رکھ دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول: حسن، عکرمہ، جابر اور عطاء و غیر ہم کے نزدیک یہ سورت مکی ہے، ابن مردویہ اور بیہقی نے " دلائل" میں ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ سورۃ الواقعہ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔

ترمذی نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے، ابوبکر (رض) نے کہا، اے اللہ کے رسول ! آپ بوڑھے ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: مجھے ہود، الواقعہ، المرسلات، عم یتساء لون اور اذا الشمس کورت نے بوڑھا کردیا ہے، ترمذی نے اسے (حسن غریب) کہا ہے۔

اور امام احمد نے جابر بن سمرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری ہی طرح نماز پڑھتے تھے، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز ہلکی ہوتی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر میں " الواقعہ" اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔

اس سورت کی فضیلت میں عبداللہ بن مسعود (رض) کی یہ روایت نقل کی جاتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" جو شخص ہر رات سورۃ الواقعہ کی تلاوت کرتا رہے گا اسے کبھی محتاج لاحق نہیں ہوگی" اسے ابویعلی اور بیہقی نے اپنی کتاب شعب الایمان میں روایت کی ہے اور محدث البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت