111: بیت المقدس فتح ہوگیا، تو اللہ نے ان سے کہا کہ جب شہر کے دروازے پر پہنچو تو سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو، اور حطۃ کہتے جاؤ، یعنی اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف کردے، لیکن ان ظالموں نے بد باطن ہونے کے سبب سرکشی کی راہ اختیار کی، اور اپنے سرینوں کے بل حطۃ کی بجائے حبۃ فی شعرۃ کہتے ہوئے داخل ہوئے۔ چونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی غایت درجہ اہانت تھی، اس لیے اللہ نے انہیں طاعون میں مبتلا کردیا (بخاری ومسلم)