فهرس الكتاب

الصفحة 3729 من 6343

19 اس کا تعلق آیت 30 میں بیان کردہ مضمون سے ہے، جس میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے والوں اور نماز قائم کرنے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔

یہاں کفار اور منکرین قیامت کا انجام بیان کیا گیا ہے، فرمایا: جو لوگ اللہ، اس کی آیات اور یوم آخرت کا انکار کریں گے، وہ جہنم کی آگ میں ڈال دیئے جائیں گے، جہاں انہیں نہ موت آئے گی تاکہ غم والم سے چھٹکارا مل جائے اور نہ ایک لمحہ کے لئے ان سے عذاب کو ہلکا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نافرمانوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

آیت 37 میں جہنمیوں کے درد و الم اور شدت عذاب کا حال یوں کیا گیا ہے کہ جب کچھ بھی نہ بن پڑے گا تو دھاڑیں مار مار کر روئیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال کردینا میں دوبارہ پہنچا دے، تاکہ عمل صالح کر کے اپنی عاقبت سدھار لیں، تو ان سے اللہ تعالیٰ کہے گا کہ تم لوگ اب جہنم کی آگ سے نکل کر دوبارہ دنیا میں جانا چاہتے ہو، تاکہ عمل صالح کرو، کیا ہم نے تمہیں اتنی لمبی عمر نہیں دی تھی کہ تم میں سے جو چاہتا غور و فکر سے کام لیتا اور راہ راست کو اختیار کرتا؟ کیا تمہارے پاس ہمارے پیغامبر نہیں آئے تھے؟ اور انہوں نے تمہیں ہمارے عذاب سے ڈرایا نہیں تھا، لیکن تم لوگوں نے شرک اور گناہوں پر اصرار کیا، تو اب چکھو اپنے کئے کا انجام، آج ظالموں کا کؤی یار و مددگار نہیں ہے۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ اگر دنیا میں کوئی آدمی ایمان اور عمل صالح کی زندگی نہیں گذارتا ہے تو قیامت کے دن لمبی عمر اس کے خلاف حجت بن جائے گی، جیسا کہ اس آیت میں اس کی صراحت کردی گئی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت