(35) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی قریش کو مخاطب کیا گیا ہے جو قرآن کریم کے وحی الٰہی ہونے کا انکار کرتے تھے کہ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور تم اس کا انکار کرتے ہو تو بتاؤ تو سہی کہ تم سے بھی زیادہ کوئی گمراہ ہوسکتا ہے؟
یہ حقیقت تو روز روشن کی طرح واضح ہوچکی ہے کہ قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے اور تم بغیر دلیل و برہان اس کا انکار کئے جا رہے ہو۔
(آیت(35) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اپنے نبی اور ان کے مومن ساتھیوں کو مشرق و مغرب میں غلبہ دیں گے، قیصر و کسری اور دیگر طاقتوں کا زور توڑ دیں گے اور اسلام تیزی کے ساتھ ہر طرف پھیلنے لگے گا اور ہمارے رسول اہل قریش کے شہر مکہ کو بھی فتح کریں گے اور وہاں سے ہمیشہ کے لئے کفر و شرک کا خاتمہ ہوجائے گا، تب کافروں کو یقین ہوجائے گا کہ واقعی قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے سچ ہے۔
آیت کے آخر میں اہل قریش کو بطور زجر و توبیخ کہا گیا ہے کہ کیا قرآن کریم اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کے لئے اللہ کی گواہی کافی نہیں ہے؟ وہ تو ہر چیز سے باخبر ہے، کوئی بات اس سے مخفی نہیں ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ قرآن اسی نے اپنے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہے۔