(36) جب کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ اب آپ سلامتی کے ساتھ کشتی سے زمین پر اتر جایئے، آپ پر اور آپ کے کچھ ساتھی مسلمانوں پر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا سایہ رہے گا، اور ان میں سے کچھ کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو آگے چل کر کفر کی راہ اختیار کرلیں گے، اور ان کا منتہائے مقصود دنیا کا عیش و آرام ہوجائے گا، تو ہم انہیں اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیں گے، لیکن انجام کار انہیں دردناک عذاب سے دوچار کردیں گے۔