(4) شوکانی لکھتے ہیں اثبات توحید باری تعالیٰ اور مشرکین کے باطل عقائد کی تردید کے بعد اب اللہ تعالیٰ اس دور کے منکرین رسالت محمدیہ کے شبہات کی تردید کر رہا ہے۔ مشرکین کہا کرتے تھے کہ محمد جھوٹا ہے، یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے، بلکہ وہ ابو فکیہ، عداس اور جبیر جیسے یہودیوں کی معاونت سے، خود ہی اسے گھڑ کر قرآن کے نام سے لوگوں کو سناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: یہ ظلم ہے کہ انہوں نے اللہ کے معجزانہ کلام کو جو نور و ہدایت کا سرچشمہ ہے، انسانی کلام کہا، اور یہ بہتان ہے کہ انہوں نے محمد جیسے صادق و امین کو جھوٹا بتایا۔ مشرکین کہا کرتے تھے یہ قرآن گزشتہ زمانوں کے قصے ہیں جنہیں محمد صبح و شام کچھ لوگوں کی مدد سے لکھواتا رہتا ہے، اور پھر انہیں قرآن کے نام سے سنا دیتا ہے۔
کہتے ہیں کہ نضر بن حارث اس شبہ کے پھیلانے میں پیش پیش رہتا تھا، اللہ نے ان کی اس شبہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو اس علام الغیوب کی نازل کردہ کتاب ہے جس سے آسمانوں اور زمین کا کوئی راز مخفی نہیں ہے اور وہ کتاب ایسے اسرار و معانی کو حاوی ہے جن تک انسانی عقلیں پہنچنے سے قاصر ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ تم ہزار مخالفت اور دشمنی کے باوجود اس جیسا کلام لانے سے عاجز ہو۔
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے، اس لیے اس نے آیت کے آخری حصہ (انہ کان غفورا رحیما) میں مشرکین مکہ کو ان کی تمام افترا پردازیوں اور کفر و عناد کے باوجود توبہ کر کے اسلام قبول کرلینے کی دعوت دی ہے۔