فهرس الكتاب

الصفحة 4661 من 6343

(2) اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ جب وہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں ہوں تو اتنی اونچی آواز سے نہ بولیں کہ ان کی آواز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند ہوجائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح نہ پکاریں جس طرح وہ آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں بلکہ نہایت مؤدبانہ طور پر دھیمی آواز میں اس طرح پکاریں جس طرح نہایت معظم و محترم اور صاحب ہیبت انسان کو پکارا جاسکتا ہے، اس لئے کہ آپ کی شان میں ادنیٰ گستاخی اللہ کے نزدیک گناہ عظیم ہے اور ایسا کرنے والے کے سارے نیک اعمال غیر شعوری طور پر ضائع ہو سکتے ہیں۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد اس آیت کے پیش نظر، مسلمانوں پر واجب ہے کہ جب بھی آپ کا ذکر جمیل آئے، یا آپ کا کوئی حکم یا کوئی حدیث بیان کی جائے تو ادب و احترام محلوظ رکھا جائے، آپ کی شان میں ادنیٰ گستاخی بھی نہ ہونے پائے، آپ کی حدیث پر کسی دوسرے کے قول کو مقدم نہ کیا جائے، چاہے وہ دنیا کا کوئی بھی انسان ہو۔

حاکم نے صحیح سند کے ساتھ ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابوبکررضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے، میں جب تک زندہ رہوں گا آپ سے سرگوشی کے ادناز میں بات کروں گا حاکم نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ یہ امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور حافظ ذہبی نے ان کی تائید کی ہے اور بخاری و مسلم نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ثابت بن قیس بن شماس نے کہا: جن کی آواز اونچی تھی کہ میری ہی آواز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے اونچی ہوتی ھی، میرے اعمال برباد ہوگئے، اور میں اہل جہنم میں سے ہوں، اور محزون و مغموم اپنے گھر میں جا کر بیٹھ گئے صحابہ کرام نے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے حال کی خبر دی، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: نہیں وہ تو اہل جنت میں سے ہیں، چنانچہ وہ یمامہ میں مرتد ہونے والوں کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مارے گئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت