فهرس الكتاب

الصفحة 4414 من 6343

(21) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اس طرف اشارہ کیا ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کا استہزاء کچھ اس وجہ سے نہیں تھا کہ وہ نشانیاں ہی اس قابل نہ تھیں کہ ان پر اثر انداز ہوتیں، بلکہ وہ ایسا محض کبر و عناد کی وجہ سے کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر نشانی پہلی نشانی سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے انہیں دنیاوی عذاب میں بھی مبتلا کیا کہ شاید اس طرح وہ رجوع الی اللہ کریں اور جب عذاب کی سختی سے تلملا اٹھے تو موسیٰ سے کہا اے جادوگر ! تم کہتے ہو کہ تمہارا رب تم پر ایمان لانے والوں سے عذاب کو ٹال دیتا ہے تو دعا کرو کہ وہ ہم سے عذاب کو دور کر دے، اگر ایسا ہوگیا تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے، اور جسے تم راہ ہدایت کہتے ہو اسے کہتے ہو اسے اختیار کرلیں گے، چنانچہ ہم نے ان سے عذاب کو ٹال دیا، تو وہ فوراً بد عہدی کر بیٹھے اور ضلالت و گمراہی میں اور آگے بڑھتے چلے گئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت